Pages

Saturday, 7 December 2013

سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم اور دہریت

یہ اس دور کی بات ھے جب میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا اس روز میں سکول سے چھٹی کرکے واپس گھر کو لوٹ رھا تھا کہ راستے مین مجھے ھمارا ایک رشتہ دار ملا جس کے ساتھ ھمارے پنڈ کے سب لوگوں نے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ پنڈ والوں نے جب اس کا حقہ پانی بند کر دیا تو وہ مجبورا" اپنا گھر بار بیچ کر بال بچوں سمیت اپنی زرعی زمین میں مکان بنا کر وھیں رھنے لگا تھا۔ اس خاندان کو نہ تو کسی شادی غمی میں بلایا جاتا اور نہ ھی کوئی ان کی شادی غمی میں شرکت کرتا۔ گرمی کا موسم تھا میں ایک درخت کے نیچے تھوڑی دیر سانس لینے کے لئے رکا اس وقت وہ سائیکل پر سوار ھو کر شہر کی طرف کسی کام سے جا رھا تھا۔ مجھے درخت کے نیچے رکا دیکھ کر وہ بھی میرے پاس آ گیا۔ مجھ سے سلام لینے کے بعد میری پڑھائی وغیرہ کے بارے مین پوچھنے لگا۔ مین نے اس سے سوال کیا " ماموں آپ لوگ ھم سب سے الگ کیوں رھتے ہیں"۔ وہ کچھ دیر مسکراتے ھوئے مجھے دیکھتا رھا پھر بولا ' پتر میں تم سے ایک سوال پوچھوں؟ میں نے کہا پوچھو۔ کہنے لگا مجھے بتاؤ کیا تم نے اللہ دیکھا ھے؟ میں اس کے اس سوال پر گڑبڑا سا گیا۔ میں نے کہا اللہ ھے تو سہی لیکن نظر کسی کو نہیں آتا۔ کہنے لگا، جو کبھی نظر نہیں آتا ، وہ ھے بھی نہیں (نعوذباللہ) ۔ میں نے کہا نہیں ماموں اللہ ھے مولوی جی بھی کہتے ھیں اور دینیات والے ماسٹر جی بھی کہتے ہیں۔ اس پر وہ الٹی سیدھی بکواس کرے لگا جو مجھے اچھی نہیں لگ رھی تھی لیکن میں اپنی تربیت کے مطابق احتراما" خاموش رھا۔ میں کچھ دیر اس کی فضولیات سننے کے بعد اجازت لے کر گھر چلا گیا۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنے ماموں سے اس کی اس باتوں کا ذکر کیا انہوں نے پہلے تو مجھے ڈانٹا کہ میں اس سے کیوں ملا پھر مجھے سمجھانے لگے کہ وہ دہریہ ھے گمراہ ھے اسی وجہ سے پنڈ والوں نے اس سے ھر قسم کا ناطہ توڑ لیا ھے۔
وقت گزرتا رھا کچھ سال گزرنے کے بعد ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ۔ اس شخص نے ایک دن اپنے دو بچوں اور گھر والی کو سوتے میں قتل کیا اور خود بھی خودکشی کر لی۔ وہ دہریہ تھا، یعنی لامذھب تھا۔ بے دین تھا۔ اس نے اپنی جوانی میں اسلام کو چھوڑا اور کسی قادیانی کی باتوں میں آ کر قادیانیت اختیار کر لی ، اور قادیانیوں کے ھاں جا کر رھنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد جیسا کہ عام طور پر قادیانیوں کے ساتھ ھوتا ھے وہ قادیانیت سے بھی مطمئن نہ ھوا اور وہ لادین ھو گیا جس پر قادیانیوں نے بھی اسے بھگا دیا۔

پہلے وقتوں میں جب یہ سوشل میڈیا جیسے مادر پدر آزاد میڈیا نہیں تھے اس وقت ایسے گمراھوں یا زھنی مریضوں سے قطع تعلق اختیار کر لیا جاتا تھا۔ ان سے کوئی ملتا جلتا نہیں تھا اگر کسی ناواقف سے یہ لوگ ملتے اور اس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے بھی تو لوگ ان کی اصلیت جان کر ان سے دور ھوجاتے ۔ لیکن اب وقت بدل گیا ھے ان ذھنی مریضوں کو ایک محفوظ ٹھکانہ مل چکا ھے ایک پلیٹ فارم میسر آ چکا ھے۔ اور وہ ٹھکانہ وہ پلیٹ فارم سوشل میڈیا ھے جہاں پر یہ بآسانی لوگوں میں گمراھی پھیلانے میں مصروف ھو چکے ھیں۔

یہ مردود اور مذاھب کے ٹھکرائے ھوئے وہ لوگ ھیں جو ذھنی طور پر اسقدر مایوس اور گمراہ ھو چکے ھوتے ھیں کہ ان میں سے اکثر خودکشی کر لیتے ھیں۔ان کے اندر اٹھنے والے سوالات اور نہ ملنے والے جوابات ان کو خطرناک قسم کے پاگل پن کی طرف دھکیل دیتے ھیں۔ ایسے میں ان کے پاس صرف دو راستے رہ جاتے ھیں یا تو یہ اپنے اندر پیدا ھونے والے شدید قسم کے پاگل پن سے نجات حاصل کرنے کے لئے حرام موت کو گلے لگا لیں یا پھر انتقاما" دوسروں کو بھی گمراہ کرکے اس سے وقتی ذھنی تسکین حاصل کر سکیں۔ یہ ایک انسانی فطرت ھے کہ انسان اگر کسی تکلیف میں مبتلا ھو تو اس وقت اس کی تکلیف کم ھوجاتی ھے جب وہ اپنی تکلیف جیسی تکلیف میں کسی اور کو بھی مبتلا دیکھ لیتا ھے۔ تقریبا" تمام کے تمام دہریوں کا تعلق پہلے قادیانت سے ہوتا ھے جو اس جھوٹے مذھب سے مایوس ھو کر دہریت اختیار کر لیتے ھیں۔

ان کا آسان ترین حدف مایوس اور دین سے دور رھنے والے نوجوان ھوتے ھیں جو بڑی آسانی سے ان کی باتوں کے چنگل میں پھنس جاتے ھیں۔ ان لوگوں نے فیس بک پر ایسے پیجز بنا رکھے ھیں جہاں گمراہ کن سوالوں اور جوابوں کی بھرمار ھوتی ھے مذاھب کی بدترین توھین کی جاتی ھے کھلم کھلا بکواس کی جاتی ھے۔

یاد رکھئے۔
ھمارے دین کی توھین کرنا بھی سخت گناہ ھے اور توھین آمیز مواد کو پڑھنا بھی اتنا ھی بڑا گناہ جتنا کہ توھین کرنا۔
ھمارے نوجوان علم کی جستجو میں ان گمراھوں کے ھتھے چڑھ رھے ھیں جو از خود جہالت اور گمراھی کے گڑھوں میں گر کر برباد ھو چکے ھیں ، پاگل پن میں مبتلا ھو چکے ھیں۔

میں اپنے مسلمان نوجوان دوستوں بھائیوں سے کہنا چاھوں گا کہ اسلام کے پاس آپ کے ھر سوال کا جواب موجود ھے اسلام میں دلچسپی لیجئیے۔ یہ وہ دین ھے جس پر تحقیق کرکے بڑے بڑے تعلیم یافتہ امریکی اور یورپی مرد و خواتین تیزی سے اسلام کی طرف راغب ھو رھے ھیں۔ آپ بھی کائنات کے سب سے سچے دین اسلام سے روشنی اور علم حاصل کیجئیے۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 3 December 2013

فیس بک کے عاشقوں کا اغواء

ہوشیار رہیے ۔ ۔ 
فیس بک کی محبوبہ سے ملاقات کے لئے جانا مہنگا بھی پڑ سکتا ھے۔ ایسی ملاقات کا نتیجہ اغواء برائے تاوان کی صورت میں بھی نکل سکتا ھے۔ آجکل میڈیا پر ایسی وارداتوں کا چرچا عام ھے جن میں کوئی مجنوں ھارٹ ھیکر اپنی فیس بک کی لیلہ سے ملنے گیا اور اغواء ھو گیا۔ لیلہ کے بھائی اسے مرغا بنا کر پیٹتے رھے اور بعد ازاں گھر والوں کو اس "ھارٹ ھیکر" مجنوں کو گھر کی مرغیاں بیچ کر، قرضہ اٹھا کر چھڑانا پڑا۔ اس سلسلے میں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ 
(1) دوستی کے لالچ میں خود کو پرنس چارلس کے طور پہ مت پیش کیجئیے۔ لمبے چوڑے بزنس وغیرہ کی کہانی مت سنائیے۔۔جہاں بیٹھ کر وقت گزاری کے لئے فیس بک استعمال کرتے ھیں اپنی اسی کریانے کی دوکان یا ایزی لوڈ والے کاؤنٹر کی اصلی تصویر لیلہ کو دکھائیے۔ تاکہ لیلہ مستقبل میں آپ کے لئے کوئی مشکل صورتحال نہ پیدا کر سکے۔
(2) کسی کی کار کے ساتھ کھڑے ھوکر فوٹو مت بنوائیے بلکہ اپنی ذاتی سائیکل یا پھٹ پھٹ کے اوپر بیٹھ کر فوٹو بنوائیے۔ اس سے لیلہ کے دل میں آپ کے لئے کوئی برا خیال نہیں پیدا ھوگا۔
(3) لیلہ سے اس کی فوٹو مانگتے وقت اس سے اپنی مرضی کے پوز میں فوٹو بنوا کر اپ لوڈ کرنے کی فرمائش کیجئیے تاکہ لیلہ کسی اور کی فوٹوز دکھا دکھا کر آپ کو کپڑوں سے باھر ھونے پر نہ مجبور کر سکے۔ پسندیدہ پوز سے مراد یہ کہ آپ لیلہ سے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایسی فوٹو بھیجو جس میں شمامہ کا ایسا سوٹ پہنا ھو جس کے اوپر نیلے رنگ کے پھول کی کڑھائی کی ھوئی ھو۔ یا ایسی فوٹو جس میں لیلہ نے مولی کو پتوں سمیت پکڑا ھو اور مولی کو چھیلے بغیر کھاتی ھوئی نظر آئے۔ 
(4) لیلہ سے فون نمبر اور شناختی کارڈ نمبر، دونوں اکٹھے طلب کریں تاکہ سم نمبر سے پتہ چل سکے لیلہ کس کی سم سے کال کر رھی ھے اور شناختی کارڈ سے پتہ چل سکے کہ لیلہ کا نمبر لیلہ کے نام سے ھی ھے یا اس کے کسی "ھیلپر" کا نمبر ہے۔ 
(5) لیلہ سے ملنے جانے سے پہلے اپنے علاقے کے دس جماعت پاس حوالدار کو پانچ سو کا نوٹ لگا دیجئیے تاکہ دور رہ کر وہ آپ پر نظر رکھ سکے کسی واردات کی صورت میں وہ سیٹیاں بجا بجا کر آپ کے اغوا کو ناکام بنا سکے۔ ملاقات کے لئے دو گھوڑا بوسکی کا سوٹ پہن کر جائیے تاکہ حوالدار دور سے بھی آپ پر نظر رکھ سکے۔ 
ان حفاظتی تدابیر کے باوجود بھی آپ اگر اغوا ھوجاتے ھیں تو سمجھ لیجئیے آپ کی قسمت میں ھی رولا تھا ۔ آپ کا خیراندیش۔
مکمل تحریر >>