Pages

Saturday, 7 December 2013

سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم اور دہریت

یہ اس دور کی بات ھے جب میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا اس روز میں سکول سے چھٹی کرکے واپس گھر کو لوٹ رھا تھا کہ راستے مین مجھے ھمارا ایک رشتہ دار ملا جس کے ساتھ ھمارے پنڈ کے سب لوگوں نے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ پنڈ والوں نے جب اس کا حقہ پانی بند کر دیا تو وہ مجبورا" اپنا گھر بار بیچ کر بال بچوں سمیت اپنی زرعی زمین میں مکان بنا کر وھیں رھنے لگا تھا۔ اس خاندان کو نہ تو کسی شادی غمی میں بلایا جاتا اور نہ ھی کوئی ان کی شادی غمی میں شرکت کرتا۔ گرمی کا موسم تھا میں ایک درخت کے نیچے تھوڑی دیر سانس لینے کے لئے رکا اس وقت وہ سائیکل پر سوار ھو کر شہر کی طرف کسی کام سے جا رھا تھا۔ مجھے درخت کے نیچے رکا دیکھ کر وہ بھی میرے پاس آ گیا۔ مجھ سے سلام لینے کے بعد میری پڑھائی وغیرہ کے بارے مین پوچھنے لگا۔ مین نے اس سے سوال کیا " ماموں آپ لوگ ھم سب سے الگ کیوں رھتے ہیں"۔ وہ کچھ دیر مسکراتے ھوئے مجھے دیکھتا رھا پھر بولا ' پتر میں تم سے ایک سوال پوچھوں؟ میں نے کہا پوچھو۔ کہنے لگا مجھے بتاؤ کیا تم نے اللہ دیکھا ھے؟ میں اس کے اس سوال پر گڑبڑا سا گیا۔ میں نے کہا اللہ ھے تو سہی لیکن نظر کسی کو نہیں آتا۔ کہنے لگا، جو کبھی نظر نہیں آتا ، وہ ھے بھی نہیں (نعوذباللہ) ۔ میں نے کہا نہیں ماموں اللہ ھے مولوی جی بھی کہتے ھیں اور دینیات والے ماسٹر جی بھی کہتے ہیں۔ اس پر وہ الٹی سیدھی بکواس کرے لگا جو مجھے اچھی نہیں لگ رھی تھی لیکن میں اپنی تربیت کے مطابق احتراما" خاموش رھا۔ میں کچھ دیر اس کی فضولیات سننے کے بعد اجازت لے کر گھر چلا گیا۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنے ماموں سے اس کی اس باتوں کا ذکر کیا انہوں نے پہلے تو مجھے ڈانٹا کہ میں اس سے کیوں ملا پھر مجھے سمجھانے لگے کہ وہ دہریہ ھے گمراہ ھے اسی وجہ سے پنڈ والوں نے اس سے ھر قسم کا ناطہ توڑ لیا ھے۔
وقت گزرتا رھا کچھ سال گزرنے کے بعد ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ۔ اس شخص نے ایک دن اپنے دو بچوں اور گھر والی کو سوتے میں قتل کیا اور خود بھی خودکشی کر لی۔ وہ دہریہ تھا، یعنی لامذھب تھا۔ بے دین تھا۔ اس نے اپنی جوانی میں اسلام کو چھوڑا اور کسی قادیانی کی باتوں میں آ کر قادیانیت اختیار کر لی ، اور قادیانیوں کے ھاں جا کر رھنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد جیسا کہ عام طور پر قادیانیوں کے ساتھ ھوتا ھے وہ قادیانیت سے بھی مطمئن نہ ھوا اور وہ لادین ھو گیا جس پر قادیانیوں نے بھی اسے بھگا دیا۔

پہلے وقتوں میں جب یہ سوشل میڈیا جیسے مادر پدر آزاد میڈیا نہیں تھے اس وقت ایسے گمراھوں یا زھنی مریضوں سے قطع تعلق اختیار کر لیا جاتا تھا۔ ان سے کوئی ملتا جلتا نہیں تھا اگر کسی ناواقف سے یہ لوگ ملتے اور اس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے بھی تو لوگ ان کی اصلیت جان کر ان سے دور ھوجاتے ۔ لیکن اب وقت بدل گیا ھے ان ذھنی مریضوں کو ایک محفوظ ٹھکانہ مل چکا ھے ایک پلیٹ فارم میسر آ چکا ھے۔ اور وہ ٹھکانہ وہ پلیٹ فارم سوشل میڈیا ھے جہاں پر یہ بآسانی لوگوں میں گمراھی پھیلانے میں مصروف ھو چکے ھیں۔

یہ مردود اور مذاھب کے ٹھکرائے ھوئے وہ لوگ ھیں جو ذھنی طور پر اسقدر مایوس اور گمراہ ھو چکے ھوتے ھیں کہ ان میں سے اکثر خودکشی کر لیتے ھیں۔ان کے اندر اٹھنے والے سوالات اور نہ ملنے والے جوابات ان کو خطرناک قسم کے پاگل پن کی طرف دھکیل دیتے ھیں۔ ایسے میں ان کے پاس صرف دو راستے رہ جاتے ھیں یا تو یہ اپنے اندر پیدا ھونے والے شدید قسم کے پاگل پن سے نجات حاصل کرنے کے لئے حرام موت کو گلے لگا لیں یا پھر انتقاما" دوسروں کو بھی گمراہ کرکے اس سے وقتی ذھنی تسکین حاصل کر سکیں۔ یہ ایک انسانی فطرت ھے کہ انسان اگر کسی تکلیف میں مبتلا ھو تو اس وقت اس کی تکلیف کم ھوجاتی ھے جب وہ اپنی تکلیف جیسی تکلیف میں کسی اور کو بھی مبتلا دیکھ لیتا ھے۔ تقریبا" تمام کے تمام دہریوں کا تعلق پہلے قادیانت سے ہوتا ھے جو اس جھوٹے مذھب سے مایوس ھو کر دہریت اختیار کر لیتے ھیں۔

ان کا آسان ترین حدف مایوس اور دین سے دور رھنے والے نوجوان ھوتے ھیں جو بڑی آسانی سے ان کی باتوں کے چنگل میں پھنس جاتے ھیں۔ ان لوگوں نے فیس بک پر ایسے پیجز بنا رکھے ھیں جہاں گمراہ کن سوالوں اور جوابوں کی بھرمار ھوتی ھے مذاھب کی بدترین توھین کی جاتی ھے کھلم کھلا بکواس کی جاتی ھے۔

یاد رکھئے۔
ھمارے دین کی توھین کرنا بھی سخت گناہ ھے اور توھین آمیز مواد کو پڑھنا بھی اتنا ھی بڑا گناہ جتنا کہ توھین کرنا۔
ھمارے نوجوان علم کی جستجو میں ان گمراھوں کے ھتھے چڑھ رھے ھیں جو از خود جہالت اور گمراھی کے گڑھوں میں گر کر برباد ھو چکے ھیں ، پاگل پن میں مبتلا ھو چکے ھیں۔

میں اپنے مسلمان نوجوان دوستوں بھائیوں سے کہنا چاھوں گا کہ اسلام کے پاس آپ کے ھر سوال کا جواب موجود ھے اسلام میں دلچسپی لیجئیے۔ یہ وہ دین ھے جس پر تحقیق کرکے بڑے بڑے تعلیم یافتہ امریکی اور یورپی مرد و خواتین تیزی سے اسلام کی طرف راغب ھو رھے ھیں۔ آپ بھی کائنات کے سب سے سچے دین اسلام سے روشنی اور علم حاصل کیجئیے۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 3 December 2013

فیس بک کے عاشقوں کا اغواء

ہوشیار رہیے ۔ ۔ 
فیس بک کی محبوبہ سے ملاقات کے لئے جانا مہنگا بھی پڑ سکتا ھے۔ ایسی ملاقات کا نتیجہ اغواء برائے تاوان کی صورت میں بھی نکل سکتا ھے۔ آجکل میڈیا پر ایسی وارداتوں کا چرچا عام ھے جن میں کوئی مجنوں ھارٹ ھیکر اپنی فیس بک کی لیلہ سے ملنے گیا اور اغواء ھو گیا۔ لیلہ کے بھائی اسے مرغا بنا کر پیٹتے رھے اور بعد ازاں گھر والوں کو اس "ھارٹ ھیکر" مجنوں کو گھر کی مرغیاں بیچ کر، قرضہ اٹھا کر چھڑانا پڑا۔ اس سلسلے میں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ 
(1) دوستی کے لالچ میں خود کو پرنس چارلس کے طور پہ مت پیش کیجئیے۔ لمبے چوڑے بزنس وغیرہ کی کہانی مت سنائیے۔۔جہاں بیٹھ کر وقت گزاری کے لئے فیس بک استعمال کرتے ھیں اپنی اسی کریانے کی دوکان یا ایزی لوڈ والے کاؤنٹر کی اصلی تصویر لیلہ کو دکھائیے۔ تاکہ لیلہ مستقبل میں آپ کے لئے کوئی مشکل صورتحال نہ پیدا کر سکے۔
(2) کسی کی کار کے ساتھ کھڑے ھوکر فوٹو مت بنوائیے بلکہ اپنی ذاتی سائیکل یا پھٹ پھٹ کے اوپر بیٹھ کر فوٹو بنوائیے۔ اس سے لیلہ کے دل میں آپ کے لئے کوئی برا خیال نہیں پیدا ھوگا۔
(3) لیلہ سے اس کی فوٹو مانگتے وقت اس سے اپنی مرضی کے پوز میں فوٹو بنوا کر اپ لوڈ کرنے کی فرمائش کیجئیے تاکہ لیلہ کسی اور کی فوٹوز دکھا دکھا کر آپ کو کپڑوں سے باھر ھونے پر نہ مجبور کر سکے۔ پسندیدہ پوز سے مراد یہ کہ آپ لیلہ سے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایسی فوٹو بھیجو جس میں شمامہ کا ایسا سوٹ پہنا ھو جس کے اوپر نیلے رنگ کے پھول کی کڑھائی کی ھوئی ھو۔ یا ایسی فوٹو جس میں لیلہ نے مولی کو پتوں سمیت پکڑا ھو اور مولی کو چھیلے بغیر کھاتی ھوئی نظر آئے۔ 
(4) لیلہ سے فون نمبر اور شناختی کارڈ نمبر، دونوں اکٹھے طلب کریں تاکہ سم نمبر سے پتہ چل سکے لیلہ کس کی سم سے کال کر رھی ھے اور شناختی کارڈ سے پتہ چل سکے کہ لیلہ کا نمبر لیلہ کے نام سے ھی ھے یا اس کے کسی "ھیلپر" کا نمبر ہے۔ 
(5) لیلہ سے ملنے جانے سے پہلے اپنے علاقے کے دس جماعت پاس حوالدار کو پانچ سو کا نوٹ لگا دیجئیے تاکہ دور رہ کر وہ آپ پر نظر رکھ سکے کسی واردات کی صورت میں وہ سیٹیاں بجا بجا کر آپ کے اغوا کو ناکام بنا سکے۔ ملاقات کے لئے دو گھوڑا بوسکی کا سوٹ پہن کر جائیے تاکہ حوالدار دور سے بھی آپ پر نظر رکھ سکے۔ 
ان حفاظتی تدابیر کے باوجود بھی آپ اگر اغوا ھوجاتے ھیں تو سمجھ لیجئیے آپ کی قسمت میں ھی رولا تھا ۔ آپ کا خیراندیش۔
مکمل تحریر >>

Friday, 25 October 2013

سلاجیت اور سانڈے کا تیل

جس قوم کا ہر شخص مردانہ کمزوری میں مبتلا ہو اور جس قوم میں ہر شخص اپنے اپنے سانڈے کا تیل نکال کر بیچ رہا ہو، اپنی اپنی سلاجیت کے دام کھرے کر رہا ہو، اس قوم نے تعلیم و ترقی کے میدان میں کون سا معرکہ مارنا ہے؟ جو قوم پتھروں، نگینوں اور ھتھیلی کی لکیروں میں اپنا مستقبل تلاش کرتی ہو اس کو اپنے رب کی ربوبیت اور فضل پر کیسے یقین ہو سکتا ہے؟ 

ھمارے ملک کا یہ سب سے بڑا المیہ ھے کہ یہاں ھر کوئی خود کو خود ھی ایکسپرٹ قرار دے لیتا ھے اور خود ہی سپیشلسٹ بن کر معصوم انسانوں کے جان و مال اور ایمان سے کھیلنے لگتا ھے۔یہاں ایکسپرٹ بننے کے لئے کسی ڈگری، ڈپلومہ یا سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ھوتی۔ یہی وجہ ھے کہ آپ کو یہاں قدم قدم پر ایک سے بڑھ کر ایک فراڈیہ ملے گا۔ سڑکوں ،بازاروں، ریلوے اسٹیشنوں، لاری اڈوں کے قریب آپ کو ایسے ہی کئی ماھرین نفسیات، جنسیات، طبیعیات، فلکیات اور عملیات وغیرہ ڈیرہ جمائے نظر آئیں گے جو معصوم خلق خدا کو لوٹ رھے ھوں گے۔ گلیوں محلوں میں عطائی حکیم اور ڈاکٹر نظر آئیں گے۔ کسی کے پاس کوئی ڈگری کوئی سند نہیں ھوتی۔ لیکن ھر کوئی اپنے تئیں سپیشلسٹ بنا ھوا ھے۔ کہیں سڑک کنارے آپ کی آنکھوں کے سامنے سانڈے کا تیل نکالا جا رھا ھے، کہیں پر کیکروں کی کالی گوند کو سلاجیت قرار دے کر لوگوں کی مردانہ طاقت بڑھائی جا رہی ھے۔ کہیں ماھر عملیات فٹ پاتھ پر کپڑا بچھائے لوگوں کے جن نکالتا نظر آئے گا۔ کوئی فٹ پاتھیہ پامسٹ اپنے مستقبل سے بے خبر لوگوں کا مستقبل بتاتا نظر آئے گا۔ ان سب میں سے سب سے فیورٹ دھندہ جنسی امراض کے علاج کا ھے۔یہاں ھر کوئی جنسی مریض ہے اور ھر کوئی اس جنسی مریض کا ڈاکٹر بنا ھوا ہے۔ کوئی دیوار ایسی نہیں ہوگی جس پر بڑے بڑے حروف میں آپ کے مردانہ امراض کی لمبی چوڑی لسٹ نہیں لگی ہوگی اور ساتھ میں ان امراض کے سپیثلسٹ کا لاری اڈا کا ایڈریس نہیں ہوگا۔ یوں محسوس ہوتا ہے اس ملک کا ہر بندہ مردانہ کمزوری کا شکار ہے اور ہر گلی کی نکڑ پر اس مرض کے ڈاکٹر کا "کلینک" ہے۔ 

میں مجنوں دیوانہ سوچ رہا ہوں جس قوم کا ہر شخص مردانہ کمزوری میں مبتلا ہو اور جس قوم میں ہر شخص اپنے اپنے سانڈے کا تیل نکال کر بیچ رہا ہو، اپنی اپنی سلاجیت کے دام کھرے کر رہا ہو، اس قوم نے تعلیم و ترقی کے میدان میں کون سا معرکہ مارنا ہے؟
جو قوم پتھروں، نگینوں اور ھتھیلی کی لکیروں میں اپنا مستقبل تلاش کرتی ہو اس کو اپنے رب کی ربوبیت اور فضل پر کیسے یقین ہو سکتا ہے؟ 

مکمل تحریر >>

Monday, 14 October 2013

تعلیمی جدجہد کا روحانی راز


اس ملک و قوم پر جہالت کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے .وہاں تعلیم یا سکول کالج کا تصور بھی نہیں تھا. ملک کے طول و عرض میں ایک بھی مرد یا خاتون ایسے نہیں تھے جنہوں نے کبھی سکول جا کر بھی دیکھا ھو . خاص طور پر خواتین کیلئے تو تعلیم کا نام لینا بھی حرام قرار دے دیا گیا تھا. کسی نے سکول کا نام بھی لیا اسے دھائیں سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا . ایسی صورتحال کو دیکھ دیکھ کر سمندر پار ہماری حالت پر دن رات کڑھنے والے ہمارے امریکی بھائی راتوں کو منہ چھپا چھپا کر رویا کرتے تھے، ہماری جہالت اور تعلیم سے دوری ان کو خون کے آنسو رلاتی تھی . وہ بیچارے مندروں مسجدوں گرجا گھروں میں ہماری جہالت کے خاتمے کیلئے دعائیں کیا کرتے. درباروں پر منتیں مانا کرتے.
آخرکار ان کی دعائیں مناجاتیں اور منتیں رنگ لائیں. اور . . . پھر ایک دن دو باپ بیٹی تعلیم کے فرشتے بن کر آسمان سے اترے ان کے زمین پر اترتے ہی اس ملک و قوم کی تقدیر بدل گئی . دھڑادھڑ یونیورسٹیاں کالج سکول کھلنے لگے . باپ بیٹی کے قدموں کی برکت سے مرد و خواتین اندھا دھند سکولوں کالجوں میں داخلے لینے لگے وہ قوم جس کو تعلیم کا نام سن کر ہی بخار ہوجاتا تھا ان باپ بیٹی کی بیمثال جدوجہد کے سبب بھاگ بھاگ کر تعلیمی اداروں میں علم کی دولت سے مالامال ہونے جا رہی تھی. جہالت کے اندھیرے چھٹنے لگے تھے . ایک روحانی تعلیمی انقلاب کی بدولت میرے جیسے ان پڑھ بڈھے طوطے رات کو ناخواندگی کی حالت میں سوتے اور صبح آنکھیں ملتے ہوئے جاگتے تو زیور تعلیم سے آراستہ ہوچکے ھوتے . خواتین بھی جوق در جوق بے خطر تعلیم حاصل کرنے لگیں میرے پنڈ کی مائی پھاتاں، کوڑی مائی ، اور بے بے مختاران جیسی ستر ستر سال کی بوڑھی عورتیں ڈگریوں پر ڈگریاں لینے لگیں. 
ایک بڑی حیرت انگیز اور معجزانہ بات تھی کہ باپ بیٹی کی عظیم الشان جدوجہد، روحانی یا سلیمانی ٹوپی جیسی تھی جو صرف ہمارے امریکی بھائیوں کو نظر آتی . لوگ تعلیم کے میدان میں جھنڈے پر جھنڈے گاڑ رہے تھے لیکن ان کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان تعلیمی جھنڈوں کا کپڑا کہاں سے تیار ہوکر آرہا ہے . ایک اور معجزہ بھی ساتھ ساتھ رونما ہورہا تھا چھ سات سال کی گل مکئی صحافت کے میدان میں بھی سب کو پیچھے چھوڑ چکی تھی . پھر جیسا کہ ایسی الف لیلہ کہانیوں میں ہوتا ہے کہیں سے جنات کے بادشاہ کو اس ملک میں تعلیم کی حیرت انگیز کامیابی کا پتہ چلا . تعلیم دشمن جنات کے بادشاہ کا خون کھول اٹھا . اس نے جنات کو باپ بیٹی کی گوشمالی کیلئے بھیجا جنہوں نے تعلیم کے میدان میں تاریخی جدوجہد کرنے والی اس معصوم فرشتی پر حملہ کر دیا۔ دنیا میں کہرام برپا ھوگیا۔ ھمارے امریکی دوست جنہوں نے کبھی کان پر رینگتی جوں اور ھاتھ پر کاٹ لینے والی چیونٹی کو نہیں مارا تھا ان کی امن پسند فطرت پر خوفناک ضرب پڑی دکھ کا یہ عالم تھا کہ وہاں کی معزز خواتین اپنے جسموں پر اس فرشتی اور علم کی ملکہ کے نام لکھوا لکھوا کر ناچنے لگیں اور اپنا غم مٹانے لگیں۔ میرا جگری دوست معصوم صورت بانکی مون ویران کنوؤں پر جا کر چھپ چھپ کر روتا آھیں بھرتا اور ملکہ ء علم کے لئے درد بھری نظمیں لکھتا۔ 
تب ۔۔۔۔۔ پہلی بار۔۔۔۔۔۔پہلی بار اس ملک کے لوگوں کو اس کی تعلیمی جدجہد کا روحانی راز معلوم ھوا۔اپنے ھاں کے تعلیمی انقلاب کا اصل سرا ھاتھ لگا۔ ان کو پتہ چلا کہ کس طرح ملکہ ء علم نے اپنی روحانی قوتوں سے اس قوم کی جہالت کو علم کی روشنی میں بدل دیا تھا۔ ھمارے امریکی بھائی اب اس ملکہ علم کو سب سے بڑے اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ کر چکے ہیں دنیا بھر کے میڈیا کی طرح اس ملک کا میڈیا بھی ملکہ ء علم کو خراج تحسین پیش کرتے ھوئے نہیں تھکتا۔ 
ایسے میں میرے پنڈ کی مائی پھاتاں اور کوڑی مائی ملکہ ء علم کے اس تعلیمی انقلاب کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔شاید ان کی عمر نے ان کو نہ ماننے کے جرم کی سزا سے بے نیاز کر دیا ھے۔ 

مکمل تحریر >>

بیٹیاں

کہنے لگا کہ جب مجھے پتہ چلا کہ میرے گھر بیٹی کی پیدائش ہوئی تو میں فورا" گھر پہنچا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ بچی کو میرے حوالے کر دو۔ میری بیوی نے مجھے کہا بچی بہت خوبصورت ہے کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کو قتل نہ کریں۔ میں نے کہا نہیں ایسا ممکن نہیں قبیلے والے ہمیں جینے نہیں دیں گے ۔ میری عزت بے عزتی کا مسلہ ہے۔ میری بیوی نے کہا چلو ایک بار مجھے اس کو جی بھر کے دیکھ لینے دو اور تم بھی دیکھ لو۔ تب میں نے بھی بے دلی سے اور حقارت سے بچی کے چہرے پر نظر ڈالی۔بچی واقعی انتہا کی خوبصورت اور پرکشش تھی تھی کچھ خون کی نسبت تھی میرا دل بے اختیار نرمی سے بھر گیا میں نے بچی کو محبت سے اٹھا لیا۔اس کو چہرے پر جوں جوں نظر پڑتی میرے دل میں اس کی محبت اور زیادہ بڑھ جاتی۔میرے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر میری بیوی نے ایک بار پھر التجائیہ انداز میں مجھے کہا کہ اس بچی کو زندہ دفن نہ کیا جائے۔ تب میری پدرانہ شفقت نے مجھے اپنی بیوی کا ہمنوا بنا دیا۔ میں نے فیصلہ کیا بچی کو دفن نہیں کروں گا۔ دن گذرنے لگے میرے رشتہ دار اور قبیلے والے مجھے پوچھتے کہ میں نے ابھی تک بچی کو زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں ان کو ٹال جاتا۔ آہستہ آہستہ میرے قبیلے والے پیٹھ پیچھے میرے اوپر آوازے کسنے لگے طعنے دینے لگے لیکن میں نظرانداز کر دیتا بچی بڑی ہونے لگی اس دوران لوگ کھل کر مجھ سے نفرت کرنے لگے کہ میں کیسا بے غیرت ہوں جو ایک بیٹی سے محبت کی خاطر قبیلے کے رواج کی پیروی نہیں کر رہا۔وقت گذرنے لگا حتی کہ میرئ بیٹی چلنے پھرنے اور کھیلنے کودنے لگ گئی۔ 

ایک دن میرے قبیلے کے تمام لوگ میرے گھر کے سامنے اکٹھے ہو گئے اور مجھے باہر بلا کر پوچھنے لگے کہ کیا میں اپنی بچی کو رواج کے مطابق دفنا رہا ہوں یا نہیں؟ اگر نہیں تو مجھے قبیلہ چھوڑ کر چلے جانا چاہئیے۔ اس پر میں نے اور میری بیوی نے قبیلے والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے اور وعدہ کیا کہ بچی کو دفنا دیا جائے گا۔اگلے روز میری بیوی نے بچی کو نئے کپڑے پہنائے اور میں بچی کو لیکر ویرانے کی طرف چل دیا۔ بچی میرے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔میری بیٹی مجھ سے بہت محبت کرتی تھی راستے میں وہ مجھ سے بہت سی معصومانہ باتیں کرتی چلی جا رہی تھی۔ ایک مناسب جگہ دیکھ کر ہم رک گئے ۔ میں کدال سے زمین کھودنے لگا۔میری بیٹی کہنے لگی ابا آپ تھک جاؤ گے مجھے یہ کام کرنے دو لیکن میں خاموشی سے خود گڑھا کھودتا رہا۔ کچھ دیر بعد جب میں تھک کر ہانپنے لگا تو میری بیٹی نے کہا ابا اب آپ آرام سے بیٹھ جاؤ اور خود اپنے ننھے منے ہاتھوں سے گڑھے میں سے مٹی نکالنے لگی۔اس طرح ہم دونوں نے گڑھے کی کھدائی مکمل کر لی۔ تب میں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ گڑھے میں لیٹ جائے تابعدار اور مجھ سے محبت کرنے والی بیٹی خاموشی سے میرا حکم مان کر قبر میں لیٹ گئی۔ میں اس پر مٹی ڈالنے لگا میری بیٹی نے اٹھنے کی کوشش نہ کی اور اس طرح میں نے اس کو زندہ دفن کر دیا۔

وہ شخص یہ واقعہ تاجدارِ انبیاء رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سنا رہا تھا جن کی آنکھوں سے آنسو اس قدر بہہ رہے تھے کہ پورا چہرہ تر ہو گیا تھا۔ 

میں بات کو مختصر کرتا ہوں۔ غور کرنے کی بات ہے کہ کہیں ہم بھی تو اپنی خواہشات اور غلطیوں گناہوں کے گڑھوں میں اپنی بیٹیوں کو ونی یا اس طرح کی دیگر رسومات نام پر زندہ دفن تو نہیں کر رہے؟


مکمل تحریر >>

ظلم

تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مزید ظلم ہوتا نہیں دیکھیں گے ظالموں کے قہقہے اور مظلوموں کی چیخیں نہیں برداشت کریں گے . انہوں نے اپنے کانوں میں سیسہ ڈال لیا اور آنکھوں میں دہکتی سلائیاں پھیر لیں . اب وہ امن کے نغمے گاتے ہیں اور اپنے اپنے خداؤں کی حمد و ثناء کرتے ہیں. ان کی زبانیں آزاد ہیں. 

مکمل تحریر >>